Qarz E Mohabbat By Mahira - Urdu Novilians


 

Sneak Peak From The Novel


"آج تو گنجا کر دوں گی۔گاڑی روک کمینے۔" وہ کیب ڈرائیور کو گاڑی غلط سمت لے جاتے دیکھ اس کے بال دبوچ چکی تھی۔ جب کہ حاتم شاہ جو اپنے دادا کے حکم پر ان کی باغی پوتی کو اغواء کرنے شہر آیا تھا اس کی یہ کاروائی دیکھ دنگ رہ گیا تھا۔اس نے تو آج تک صرف سہمی گھبرائی لڑکیاں دیکھی تھی۔ جب کہ دادا نے تو اس لڑکی کا یتیم مسکین اور معصوم سا نقشہ کھینچا تھا۔ "جاہل لڑکی۔۔۔میرے بال چھوڑو ۔ تمہارے ہاتھ توڑ دوں گا۔" اپنے بال چھڑانے کی تگ و دو میں حاتم اس کے بال پکڑ چکا تھا۔جب اگلے پل حاتم نے اس کے منہ پر زبردستی کلوروفارم لگا رومال رکھا تھا وہ ہوش کھوتی گاڑی کی پچھلی سیٹ پر گری۔ ایک غصے بھری نگاہ اس پر ڈالتے جب نگاہ اس کے ہاتھوں میں پڑی تو اپنے بال اس کے ہاتھوں میں دیکھ۔۔۔


عنایہ شاہ بہت عام سے حلیے میں کندھے پر بیگ لٹکائے سڑک کنارے کھڑی تھی وہ بار بار سڑک کی ایک جانب نظریں دوڑا رہی تھی۔ ساتھ ہی وہ ہر تھوڑی دیر بعد اپنے ہاتھ میں پکڑے فون پر بھی کچھ ٹائپ کرنے میں مصروف تھی۔۔

اس وقت دوپہر کا وقت تھا اور وہ اپنی یونی ورسٹی سے نکلتی کافی دور آتے ٹیکسی کا انتظار کر رہی تھی کیونکہ اس روڈ پر آسانی سے کیب وغیرہ مل جایا کرتی تھی۔

ہر طرف چلچلاتی دھوپ تھی جس کی بدولت عنایہ پسینے میں بھیگتی بے چین سی تھی اسی لیے جیسے ہی اس کی نظر سامنے سے آتی کیب پر پڑی اس نے سکون کا گہرا سانس بھرا اور جلدی سے ہاتھ ہلائے اسے روکنے کا اشارہ کر گئی۔

"کہاں جانا ہے ؟"

کیب ڈرائیور کے سوال پر عنایہ اسے اپنی منزل کا بتاتی جلدی سے کیب میں بیٹھی تھی۔

عنایہ کا چونکہ یہ روز کا معمول تھا اسی لیے وہ اب بغیر ادھر ادھر دھیان دیے اپنے فون میں مگن ہو چکی تھی مگر جب دس منٹ کے بعد اس نے اپنی عادت کے مطابق سیل فون بند کرتے گاڑی سے باہر نظر دوڑائی تو وہ ہکا بکا رہ گئی تھی کیونکہ یہ راستہ تو اس کے گھر تک نہیں جاتا تھا وہ بری طرح سے ہڑبڑاتے ہوئے کیب ڈرائیور کی طرف متوجہ ہوئی تھی ۔

"یہ کہاں لے کر جا رہے ہو مجھے۔ کیونکہ یہ راستہ تو میرے بتائے پتے تک نہیں جاتا۔"

عنایہ اب بہت سنبھل کر بیٹھتی سختی بھرے لہجے میں ڈرائیور سے پوچھنے لگی۔

آگے کچھ دیر خاموشی رہی تھی مگر پھر ڈرائیور بول پڑا ۔

"وہ میڈم یہ شارٹ کٹ راستہ ہے ۔۔۔۔ بس ابھی آپ کی منزل تک پہنچنے والے ہیں۔"

ڈرائیور نے عنایہ کو باتوں میں الجھایا تھا۔۔

مگر عنایہ کا ماتھا ٹھنک چکا تھا اس نے اپنے بیگ اور سیل فون کو سنبھالتے ایک غصیلی نظر ڈرائیور کی سیٹ کی پشت پر ڈالی اور پھر وہ اپنے جارحانہ انداز میں اس پر جھپٹی تھی۔

"آج تو تمہیں گنجا کر دوں گی ۔۔۔ گاڑی روک کمینے۔"

کیب ڈرائیور کو غلط سمت میں گاڑی آگے ہی آگے بڑھائے چلے جانے پر وہ اس کے بال دونوں ہاتھوں میں دبوچ چکی تھی۔

جبکہ حاتم شاہ جو ایک ٹیکسی ڈرائیور کا روپ دھارے اپنے دادا کے حکم پر اپنی اس باغی کزن کو اغوا کرنے شہر آیا تھا اس کی یہ کاروائی دیکھ کر دنگ رہ گیا تھا کیونکہ اس نے تو اپنے اردگرد موجود لڑکیوں کو ہمیشہ ڈرا سہما ہی دیکھا تھا اور پھر اس کے دادا کے مطابق ان کی یہ پوتی تو یتیم ، مسکین اور معصوم سی تھی تو حاتم شاہ ویسا ہی اس لڑکی کا نقشہ دماغ میں بنائے یہاں آیا تھا ۔۔۔

مگر یہ لڑکی اپنے عمل سے حاتم شاہ کا دماغ الٹ چکی تھی۔۔

نا چاہ کر بھی حاتم شاہ نے گاڑی روکی تھی۔۔۔

وہ اپنے چہرے کا رخ پیچھے کی جانب کر چکا تھا۔

"جاہل لڑکی بال چھوڑو میرے ورنہ ہاتھ توڑ دوں گا تمہارے۔"

حاتم شاہ نے غصے سے اپنے بال چھڑانے کی تگ و دو کی تھی مگر مقابل دھان پان سی نظر آنے والی لڑکی میں بلا کی طاقت تھی۔۔

اپنے بال اس ظالم لڑکی کی گرفت سے نا نکال پانے پر حاتم شاہ نے بھی جواباً اپنے لمبے بازو بڑھائے عنایہ کے بالوں کو جکڑا تھا۔

مگر اب دونوں طرف مقابلہ شروع ہو چکا تھا ان کی خونخوار نظریں ایکدوسرے پر مرکوز تھیں۔ 

یہ لڑکی اب بھی پیچھے نا ہٹی تو حاتم شاہ نے مجبوراً اپنی پینٹ کی جیب میں موجود کلوروفارم سے بھیگا رومال اس کے چہرے پر رکھا تو وہ اب حاتم شاہ کے بال چھوڑے رومال دور کرنے کے لیے جھٹپٹائی مگر حاتم شاہ کے ہاتھ کی مضبوطی اسے اگلے ہی لمحے ہوش و حواس سے بیگانہ کر چکی تھی ۔۔۔

وہ ہوش کھوتی گاڑی کی سیٹ پر گرتی چلی گئی تو حاتم شاہ نے غصے سے اسے گھورا تھا اور جب اس کی نظر اس کے ہاتھوں میں موجود اپنے بالوں پر پڑی تو وہ تیش سے بھرا دانت پر دانت جمائے اپنے ہاتھ کی مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا تھا۔۔۔

حاتم شاہ نے اپنے گھنے سلکی بالوں میں ہاتھ چلایا تھا اس کے پورے سر میں درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں اس لڑکی نے اسے گنجا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔۔

پھر اسی طرح بگڑے تاثرات کے ساتھ وہ ڈرائیونگ کی طرف متوجہ ہوتا گاڑی فل سپیڈ میں آگے بڑھا گیا تھا کیونکہ اسے اس لڑکی کے ہوش میں آنے سے پہلے اپنے گاؤں حویلی پہنچنا تھا۔ یہاں پر اس کے دادا بے صبری سے اپنے خیالی تصورات میں اپنی مظلوم پوتی کا خاکہ بنائے انتظار کر رہے تھے۔

گاڑی گاؤں کی حدود میں داخل ہو چکی تھی اور پھر فراٹے بھرتی حویلی کے بڑے سے گیٹ کے سامنے جا رکی تو ملازم کے گیتٹ کھولتے ہی حاتم شاہ گاڑی ایک لمبی سی راہداری عبور کرتا حویلی کے داخلی دروازے تک گاڑی لے آیا تھا۔

گاڑی سے باہر نکلتے حاتم شاہ نے چہرے پر ناگواری سجائے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا اور وہاں بے ہوش پڑی عنایہ کو وہ بغیر کسی تاثر کے اپنی بانہوں میں اٹھائے حویلی کے اندر داخل ہوا تو وہاں موجود ملازم اور گھر والے حیران پریشان سے حاتم شاہ اور اس کے بازؤں میں موجود ایک صنفِ نازک کو تکتے ساکت ہوئے تھے مگر فل وقت حاتم شاہ سب کی نظروں سے بے نیاز بنتا اپنا رخ دادا جی کے کمرے کی طرف کر گیا تھا وہ بس جلد از جلد اس سوئی ہوئی آفت کی پرکالہ کو ان کے پاس پہنچاتے اپنی جان چھڑانا چاہتا تھا آگے وہ جانے اور ان کی یہ نام نہاد معصوم پوتی ۔۔۔۔

حاتم شاہ چہرے کے مختلف زاویے بناتے بگاڑتے بغیر عنایہ کی طرف دیکھے لمبے ڈگ بھرتا آگے بڑھ رہا تھا۔

مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ کچھ دن بعد یہ مصیبت ہمیشہ کے لیے اس کے گلے پڑنے والی تھی اور یہ مصیبت وہ ہنسی خوشی اپنے سر لینے والا تھا یا پھر رو دھو کر یہ تو آنے والے وقت نے ہی بتانا تھا۔

حاتم شاہ دروازہ کھولے جیسے ہی دادا جی کے کمرے میں داخل ہوا انہوں نے کافی بے تابی سے اپنی نگاہیں اس سمت اٹھائی تھیں۔

وہ اس وقت سفید کرتا شلوار میں ملبوس اپنے چہرے پر ازلی رعب و دبدبہ لیے ہوئے تھے۔

"حاتم شاہ یہ؟۔۔۔"

دادا جی نے حیرانگی سے کچھ کہنا چاہا تھا۔

"دادا جان سنبھالیں اپنی امانت جس کا میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا۔"

حاتم شاہ نے کسی چیز کی طرح عنایہ کے وجود کو کمرے میں موجود صوفے پر ہی لٹا دیا تھا۔

دادا جی جو ہاتھ اپنی لاٹھی پر ٹکائے بیڈ کے پاس کھڑے تھے اب ناچاہتے ہوئے بھی ان کے قدم صوفے کی طرف بڑھے یہاں ان کے ضدی بیٹے کا خون موجود تھا جس سے وہ اب تک غافل رہے تھے۔

عنایہ کے چہرے پر نظر پڑتے ہی کچھ دیر کے لیے وہ سوگواری کی لپیٹ میں آئے تھے۔وہ ہو بہو ان کے چھوٹے بیٹے جیسی تھی۔

"حاتم شاہ اسے کیا ہوا ہے؟ "

دادا جی کی آواز میں تھوڑا سا پریشانی کا عنصر موجود تھا۔ 

وہ اپنے جذبات پر ہمیشہ قابو پا کر رکھنے والے انسان تھے مگر اب عمر ڈھلتے اکثر ان کے اندر کے جذبات عیاں ہو جایا کرتے تھے۔

"میں تو محترمہ کو بڑی عزت سے لے کر آ رہا تھا بقول آپ کے بچاری سی ہے آپ کی پوتی مگر اس نے تو مجھ پر ایک جنگلی بلی کی طرح حملہ ہی کر دیا تھا ۔ اگر میرے پاس دوسرا بندوبست نا ہوتا تو یہ مجھے لازمی اب تک گنجا کر چکی ہوتی۔"

حاتم شاہ نے ایک گھوری عنایہ پر ڈالتے خفگی بھرے انداز میں جواب دیا تو دادا جی اب پلٹتے بغور حاتم شاہ کی طرف دیکھنے لگے تھے ۔۔۔۔

اور تبھی ان کی نگاہ گھر کے باقی افراد پر بھی پڑی جو تجسس کے مارے ان کے کمرے تک پہنچ چکے تھے۔

"حاتم میرے بیٹے یہ کیا ہوا تمہیں؟ تمہارے بال اور چہرے پر خراشیں کہاں سے آئیں؟ اور پھر یہ لڑکی ؟ کیا کرتے پھر رہے ہو؟"

حاتم شاہ کی ماں ثمرہ بیگم کی نظر جیسے ہی اس پر پڑی وہ تیزی سے اس کے پاس آتے اس کے چہرے پر ہاتھ رکھتے فکر مندی سے پوچھنے لگیں۔

"کچھ نہیں ہوا ماں جی۔"

حاتم شاہ سچ بولنے کی بجائے جھنجھلائے انداز میں جواب دیتا دوبارہ سے اپنے بکھرے بالوں میں ہاتھ چلاتا انہیں سنوارنے کی کوشش کرنے لگا وہ کسی صورت سب کے سامنے یہ بتانے کے حق میں نہیں تھا کہ وہ ایک لڑکی کے سامنے کمزور پڑ گیا تھا ۔۔۔

"اور رہی اس لڑکی کی بات تو دادا جان سے پوچھ لیں۔ میں نے بہت لمبی ڈرائیو کی ہے اسی لیے میں بہت تھک گیا ہوں۔"

حاتم شاہ نے جان چھڑاتے کمرے سے جانا چاہا مگر اسی دوران بے ہوش پڑی عنایہ نے کسمساتے ہوئے آنکھیں کھول دی تھیں۔

وہ نا سمجھی سے پہلے کمرے کی چھت اور پھر گردن موڑے اطراف کا جائزہ لینے کی کوشش میں ہی تھی جب اس کی آنکھیں حاتم کے چہرے پر جا رکیں تو وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی تھی اسے سب کچھ یاد آتا چلا گیا تھا۔۔

"تم ۔۔۔۔ تم نے مجھے اغوا کیا ہے؟" عنایہ چٹختے ہوئے اٹھ بیٹھی تھی۔

وہیں وہاں موجود سب افراد ہکا بکا سے اب کبھی حاتم شاہ کو دیکھ رہے تھے تو کبھی عنایہ کو۔۔۔


Story From The Novel


Hatim Shah arrives in the city disguised as a taxi driver, following his grandfather’s orders to kidnap his rebellious cousin, Anaya Shah. However, instead of finding the timid, innocent girl his grandfather had described, Hatim encounters a fierce and fearless Anaya. When she realizes that the driver is taking her down the wrong road, she grabs him by the hair and angrily demands that he stop the car, even threatening to make him bald. Hatim is stunned by her boldness and struggles to free himself from her grip, but Anaya refuses to back down. Eventually, he uses a chloroform-soaked cloth to knock her unconscious and drives her to the family haveli.

At the haveli, Hatim carries the unconscious Anaya inside and takes her to his grandfather, eager to get rid of the troublesome girl. His grandfather is deeply emotional upon seeing Anaya because she bears a striking resemblance to his late younger son, her father. When Hatim complains that the supposedly helpless girl attacked him like a wild cat and nearly tore out his hair, the family notices the scratches on his face and his disheveled appearance. Hatim refuses to admit that Anaya managed to overpower him and instead blames his injuries on the long journey, leaving everyone curious about the mysterious girl he has brought home.

Before Hatim can leave the room, Anaya begins to regain consciousness. As she looks around in confusion, her eyes finally land on Hatim, and memories of the kidnapping come rushing back. She suddenly sits up and accuses him of kidnapping her, leaving everyone in the room completely shocked. Hatim’s unexpected encounter with the supposedly innocent Anaya has already turned into a battle of wills, but neither of them knows that this fierce girl will soon become a permanent part of his life—and that Hatim may eventually accept this “trouble” willingly, whether with laughter or tears.Download Novel By Clicking Download Button Below 

DOWNLOAD

Post a Comment

Previous Post Next Post