Tum Hansti Achi Lagti Ho By Wahiba Ashqam



 

 Sneak Peak From The Novel

 " کون ہے وہاں؟ " ٹھٹھرتی سردی میں وہ برتن دھو رہی تھی جب اسے لاؤنج میں کسی کے قدموں کی آہٹ محسوس ہوئی، خوف سے کانپتی وہ اس سے پہلے پیچھے مڑتی کسی نے اسے کمر سے تھامتے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔ "شش۔۔۔ہاتھ ہٹا رہا ہوں، اگر چلائی تو بولنے کے قابل نہیں چھوڑوں گا۔" اپنے کان کے قریب سرد سرگوشی پر صائمہ کی سانسیں خشک ہو گئی تھیں، وہ اس آواز کو بھیڑ میں بھی پہچان لیتی۔ وہ ارسلان شاہ تھا، اس حویلی کا اکلوتا چشم و چراغ جس کے ساتھ آغا جان نے مرنے سے پہلے اس کا نکاح کروا دیا تھا تاکہ وہ اس کی حفاظت کر سکے، لیکن وہ شخص تو آغا جان کی موت کے بعد ایسا گیا کہ پلٹ کر دیکھا ہی نہیں، اس کے بعد وہ معصوم اپنی مائی کے رحم و کرم پر آئی ٹھوکروں پر جی رہی تھی۔ "چھوڑیں مجھے۔ " ارسلان شاہ، جو اس کی غزالی آنکھوں میں کھو سا گیا تھا، صائمہ کے بولنے پر اس کی گرفت ڈھیلی ہوئی اور پھٹے ہونٹ پر نظر پڑی تو اس نے ضبط سے مٹھیاں بھینچ لی تھیں۔" کس کی جرات ہوئی ہے میری بیوی پر ہاتھ اٹھانے کی؟"


رات کا سناٹا حویلی کو اپنے گھیرے میں لیے ہوئے تھا اور کچن میں پھیلی یخ بستہ ہوا جسم میں سوئیاں سی چبھو رہی تھی۔ صائمہ نل کے جمے ہوئے ٹھنڈے پانی میں برتن دھو رہی تھی۔ اس کی منجمد ہوتی انگلیوں میں اب مزید برتن پکڑنے کی طاقت نہیں بچی تھی لیکن خوف ایسا تھا جو اسے رکنے نہیں دے رہا تھا۔ اچانک تاریک راہداری سے بھاری قدموں کی آہٹ ابھری۔ صائمہ کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ اس کے ذہن میں فوراً دانیال کا خبیث چہرہ ابھرا۔ اس کا پورا وجود خوف سے کانپنے لگا۔ اس سے پہلے کہ وہ پیچھے مڑ کر دیکھتی کسی نے ایک جھٹکے سے اسے کمر سے جکڑ لیا۔ اس کے منہ پر ایک سخت اور گرم ہاتھ جما دیا گیا جس سے اس کی چیخ اندر ہی گھٹ کر رہ گئی۔ "شش۔۔ ہاتھ ہٹا رہا ہوں اگر چلائی تو بولنے کے قابل نہیں چھوڑوں گا۔" اس کے کان کے بالکل قریب ایک سرد اور دھمکی آمیز سرگوشی ابھری۔ صائمہ کی سانسیں وہیں کی وہیں اٹک گئیں۔ وہ اس آواز کو ہزاروں کے مجمعے میں بھی پہچان سکتی تھی۔ یہ آواز ارسلان شاہ کی تھی۔ شاہ حویلی کا اکلوتا وارث وہی شخص جس کے ساتھ آغا جان نے اپنی زندگی کی آخری سانسوں میں اس کا نکاح کروایا تھا تاکہ وہ اس کی حفاظت کر سکے۔ لیکن آغا جان کی تدفین کے بعد وہ شخص ایسا غائب ہوا کہ جیسے اس کا وجود ہی نہ ہو۔ اس کے بعد صائمہ کو فہمیدہ بیگم اور دانیال کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تھا جہاں وہ ایک نوکرانی سے بھی بدتر زندگی گزار رہی تھی۔ ارسلان نے آہستہ سے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے ہٹایا لیکن اس کی گرفت صائمہ کی کمر پر اب بھی مضبوط تھی۔ صائمہ نے پورے زور سے اسے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی۔ "چھوڑیں مجھے دور ہٹیں مجھ سے" ارسلان نے اس کی دونوں کلائیاں پکڑ کر اسے اپنی طرف موڑا۔ "اتنی جلدی اپنے شوہر کو بھول گئی صائمہ؟" صائمہ نے غصے اور دکھ سے بھری نظروں سے اسے دیکھا۔ کچن کے دھیمے بلب کی روشنی میں ارسلان کا چہرہ سخت اور سنجیدہ لگ رہا تھا لیکن اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی تپش تھی۔ "شوہر؟" صائمہ کی آواز میں کڑواہٹ گھل گئی۔ "کون سا شوہر؟ وہ جو مجھے دو سال پہلے اس جہنم میں اکیلا چھوڑ کر بھاگ گیا تھا؟ آپ کو تو میرا نام بھی یاد نہیں ہونا چاہیے تھا پھر آج کیسے راستے بھول گئے؟" ارسلان نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔ اس کی نظریں صائمہ کے سہمے ہوئے چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔ تاریکی میں بھی وہ صائمہ کے زرد چہرے پر پڑے لال نشان دیکھ سکتا تھا۔ اس نے ایک ہاتھ اٹھا کر صائمہ کے چہرے کے قریب کیا۔ "دور رہیں مجھ سے مجھے مت چھوئیں۔" صائمہ نے اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ لیکن ارسلان نے اس کی ٹھوڑی کو پکڑ کر چہرہ اپنی طرف کیا۔ جیسے ہی اس کی نظر صائمہ کے پھٹے ہوئے ہونٹ اس سے نکلے خون کے خشک قطرے اور گال پر پڑے نیلے نشان پر پڑی اس کی آنکھوں میں جیسے خون اتر آیا۔ اس کا ہاتھ وہیں جم گیا۔ "یہ کیا ہے؟" ارسلان کی آواز یکدم بدل گئی۔ اس کی سرگوشی میں اب اک خوفناک سختی آ چکی تھی۔ صائمہ نے تلخی سے ہنسنے کی کوشش کی۔ " یہ اس حویلی کا تحفہ ہے جس کے مالک آپ ہیں۔ یہ اس بے بسی کا انعام ہے جو آپ مجھے دے کر گئے تھے۔" ارسلان نے صائمہ کی کلائی کو ذرا زور سے دبا دیا اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ "میں نے پوچھا یہ نشان کس کا ہے صائمہ؟ کس نے تمہارے چہرے کا یہ حال کیا ہے؟"

"آپ کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟" صائمہ کی آنکھوں سے ضبط کیے ہوئے آنسو چھلک پڑے۔ "آپ تو دو سال پہلے مرنے کے لیے چھوڑ گئے تھے نا مجھے؟ آغا جان کے جاتے ہی ان لوگوں نے مجھے اس حویلی کی نوکرانی بنا دیا۔ میں دن بھر برتن دھوتی ہوں جھاڑو دیتی ہوں اور رات کو ان کی گالیاں اور مار سہتی ہوں۔ آپ کہاں تھے تب؟" ارسلان نے اپنے دانت پیسے۔ اس کا ضبط لمحہ بہ لمحہ ٹوٹ رہا تھا۔ "صائمہ مجھے سیدھا جواب دو۔" ارسلان نے اپنی آواز کو کنٹرول کرتے ہوئے لیکن حد درجے سنجیدگی سے کہا۔ "مجھے نام بتاؤ۔"

"نہیں بتاتی" صائمہ نے تڑپ کر کہا۔ "آپ کون ہوتے ہیں اب پوچھنے والے؟ آپ میرے کچھ نہیں لگتے۔ چلے جائیں یہاں سے اس سے پہلے کہ دانیال بھائی آ جائیں اور وہ آپ کے ساتھ بھی..."

"دانیال؟" ارسلان نے لفظ دانیال کو اس انداز میں دہرایا جیسے وہ زہر کا گھونٹ پی رہا ہو۔ اس کی آنکھوں کی سرخی مزید بڑھ گئی۔ "کیا دانیال نے یہ کیا ہے؟" صائمہ خاموش ہو گئی۔ اس کی خاموشی اور گرتے ہوئے آنسوؤں نے ارسلان کو سارا سچ بتا دیا۔ ارسلان نے صائمہ کی کلائی چھوڑی اور اپنے دونوں ہاتھ سختی سے بھینچ لیے۔ اس کے ہاتھوں کے جوڑ سفید پڑ گئے۔ وہ صائمہ کے بالکل قریب ہوا "اس نے تم پر ہاتھ اٹھایا؟" ارسلان نے گھمبیر آواز میں پوچھا۔

"ہاں" صائمہ اب خود پر قابو نہ رکھ سکی اور چِلا اٹھی۔ "ہاں مارا ہے اس نے مجھے آج شام کو آپ کی چچی اور دانیال نے مجھے دھکا دیا میرا چہرہ دیوار سے ٹکرایا اور ہونٹ پھٹ گیا۔ دانیال نے مجھے تھپڑ مارا کیونکہ میں نے ان کے سامنے سر جھکانے سے انکار کر دیا تھا۔ اب بتائیں کیا کریں گے آپ؟ آپ کچھ نہیں کر سکتے آپ دو سال پہلے بھی بزدلوں کی طرح بھاگ گئے تھے اور آج بھی..."۔صائمہ کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی ارسلان کا ضبط مکمل طور پر ٹوٹ گیا۔ اس کے چہرے پر ایک بھیانک اور خوفناک تاریکی چھا گئی۔  ارسلان نے صائمہ کا ہاتھ تھاما لیکن اس بار اس کی گرفت میں درد نہیں بلکہ ایک عجیب سا تحفظ تھا۔ "آج اس حویلی میں ہر اس شخص کا حساب ہوگا جس نے تمہیں چھونے کی غلطی کی ہے۔" ارسلان نے صائمہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے انتہائی سرد لہجے میں کہا۔ صائمہ نے خوفزدہ ہو کر اس کا ہاتھ پکڑنا چاہا۔ "ارسلان... رکیں۔ وہ لوگ بہت ظالم ہیں دانیال کے پاس بندوق ہے..." ارسلان کے ہونٹوں پر ایک زہریلی مسکراہٹ ابھری۔ "صائمہ وہ ابھی شاہ حویلی کے اصلی شیر سے واقف ہی نہیں ہوئے۔ تم میرے ساتھ آؤ۔" ارسلان نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا اور کچن سے باہر لاؤنج کی طرف بڑھ گیا۔ صائمہ خاموشی سے اس کے پیچھے کھنچتی چلی گئی لیکن اس کے دل میں پہلی بار دو سال بعد ایک عجیب سا احساس جاگا تھا شاید خوف کا یا شاید کسی ایسے تحفظ کا جس کا انتظار وہ تڑپ تڑپ کر کر رہی تھی۔۔۔

Story From The Novel

In the freezing silence of the night, Saima was washing dishes in the cold kitchen when she heard heavy footsteps coming from the dark hallway. Before she could turn around, someone grabbed her firmly around the waist and covered her mouth. “Shh… I’m taking my hand away. If you scream, I’ll make sure you never speak again,” a cold whisper sounded beside her ear. Saima’s breath caught instantly. She could recognize that voice even in a crowd—it was Arslan Shah, the only heir of Shah Haveli and the man Agha Jaan had married her to with his dying breath, hoping he would protect her. But after Agha Jaan’s death, Arslan had disappeared for two years, leaving Saima at the mercy of his family. She had been treated worse than a servant, forced to endure insults, beatings, and endless humiliation. When Arslan finally released her mouth, Saima pushed him away angrily. “Leave me alone!” He caught her wrists and turned her toward him. “Forgot your husband so quickly, Saima?” His words only filled her eyes with bitterness. “Husband? Which husband? The one who abandoned me in this hell two years ago?”

Arslan’s expression hardened as his eyes moved over her frightened face. In the dim kitchen light, he noticed the bruises on her cheek, the dried blood on her split lip, and the marks covering her pale skin. “Who did this to you?” he demanded. Saima tried to hide her tears. “Why do you care? You left me to suffer two years ago. After Agha Jaan died, they turned me into a servant. I spent my days washing dishes and cleaning, and my nights listening to their insults and enduring their violence. Where were you then?” When she finally mentioned Daniyal, Arslan’s entire demeanor changed. “Did Daniyal do this?” Saima’s silence gave him the answer. Breaking down, she confessed that Daniyal and his mother had pushed her against the wall that evening, injuring her lip, and Daniyal had slapped her when she refused to bow her head before him. “Now tell me, what can you do?” she cried bitterly. “You ran away like a coward two years ago, and you still can’t protect me!” Something inside Arslan finally snapped. His eyes turned dangerously cold.

Arslan took Saima’s hand, but this time his touch carried no anger—only a fierce sense of protection. “Tonight, everyone in this house who dared to lay a hand on you will answer for it,” he said in a chillingly calm voice. Saima immediately tried to stop him. “Arslan… please. They’re cruel, and Daniyal has a gun.” A dark, almost dangerous smile appeared on Arslan’s lips. “They haven’t met the real lion of Shah Haveli yet.” He tightened his hold on her hand and led her out of the kitchen toward the grand lounge. Saima followed silently, her heart pounding with fear and uncertainty. For the first time in two long years, however, something unfamiliar stirred inside her heart. Maybe it was fear of what Arslan was about to do… or perhaps it was the fragile hope of finally having the protection she had desperately waited for all this time.Download Novel By Clicking Download Button Below

DOWNLOAD

Post a Comment

Previous Post Next Post