Mann Mayal By Dia Novels Complete PDF - Urdu Novilians




Novel Name

Mann Mayal

Writer

Diya Novels

Category

Second Marriage Based

Most Attractive Sneak Peak Of Mann Mayal By Diya  




"This Hashim Khanzada is a stain on the boss's name. He humiliated me like this for three holidays, as if the whole company is walking on my shoulders and you are saying that he looks very handsome???" Nawal was angrily saying to Sahar, who was indicating her to turn around. "This bastard..." She had just turned around and the rest of the words were left in her mouth. Standing behind, Hashim Khanzada was staring at Nawal. She bit her lip and hid her face. But at the office party, his young handsomeness shocked Hashim..." Will you marry me, Miss Nawal?" Her face turned red at Hashim's proposal..." Sir, are you conscious, are you talking like this after being married?? " I am married but my wife has some complications, I cannot establish this intimacy." Nawal blushed with shame at Hashim's frank words, but on the first night, Hashim poured all his strength into his beautiful girl...

"Sir, I will keep deducting the loan of one million from my salary every month." Hashim looked at her, folded both arms on his chest and said, "Miss Nawal, your salary is seventy thousand. If you cut even twenty thousand per month, it will take me years. However, if you want, I can forgive you this money." Hearing this, Nawal raised her head. She said, "What do you mean, just?" "Miss Nawal, will you marry me?" She was shocked to hear these words from such a rich business tycoon.

She stood up immediately, standing up. "Sir... Sir, what are you talking about??" "I am conscious and I also want to clear this to you that I am already married. I have a wife who is suffering from some such complex diseases that she cannot give me my rights nor can I have children with her and my mother-in-law repeatedly pressures me to make her happy. The fact is that she is also in bed and at that time I have not found any other girl with a better nature than you. Will you marry me?..." Nawal had immediately taken two steps back.

Tears had come to her eyes. "No, I had never thought of marrying a person like you who is already married. I am still a very young virgin. How can I marry a married person like you??" Hashim had a smile on his face. Now how could he tell this innocent girl that he himself was still single, so many years had passed since his marriage, but he had not yet gone near Presha...

"Okay Miss Nawal, you have time to think, if you are interested in marrying me, then tell me. Now you can go..." Nawal had returned. Her friend was repeatedly asking her what happened inside? Today, you were a little late in the boss's office, but she could not say anything. That evening, when she went home, her aunt was sitting in front of her. She had come to visit her father and she started talking to him in a casual manner...

"Brother, I have only one son and your health is also not good. I want to settle the relationship of Nawal daughter with my Jawad. There is no man in the house and you are also in bed, so I was thinking that you should keep Jawad as your son-in-law. After this, only my husband and I will be left in our house. Anyway, we also have a right to this house, so we will also come here. Sister-in-law will also get support. We will all live together. The situation today is not like that, right, young girls are yours and you are in bed. It is necessary to have men in the house, right? Nowadays, if things go up and down, nothing is known." Nawal's steps had stopped there.

Hearing the words of her cunning aunt, she was starting to get very angry, who was trying to tie her illiterate, uneducated and unemployed son to her and was also trying to get this house in her name somehow. Hassan Sahib was about to agree to this from his sister. After all, they were brothers, so how could they know about his sister's tricks? As soon as he left, when Hassan Sahib spoke to his daughter, "Son, I want to fix your relationship with Jawad." She immediately got up from her seat.

"No way, Baba, I am such an educated girl. Is that why I studied and stood on my own feet so that when the time comes, I can marry an unemployed guy like him and later, after marriage, I can earn money and take care of him and my aunts? No way, I am not going to marry such a person." Hassan Sahib had fallen silent after hearing this from his daughter.

Rabia Begum immediately said, "Son, it has become very difficult to find relationships these days... What happened? Your aunts are here, what if they come and start living in this house?" She was one of those mothers who would marry off her daughter before the first date, lest she should pass away before her age, but Nawal had kept her head down. Her parents had repeatedly tried to pressure her, but she never wanted to let her aunt take over the house...

Her parents were as simple-minded as her. Her aunt, uncle and Jawad were equally cunning. Thinking of this, she immediately thought of Hashim. Just thinking about the way Hashim was proposing to her had made her quiet. It had taken her two days to decide, and when she went back, Hashim was still in his office. As soon as she gathered her courage, she went to his office herself. She was feeling very ashamed to say this, but she was not afraid of the boys in her family.




" باس کے نام پر دھبہ ہے یہ ہاشم خانزادہ تین چھٹیوں پر مجھے ایسے ذلیل کیا اس الو نے جیسے پوری کپنی میرے کندھوں پر چل رہی ہے اور تم کہہ رہی ہو کہ سر بہت ہینڈسم لگ رہے ہیں؟؟؟ " نوال غصے میں سحر سے کہہ رہی تھی ۔ جو اسے پلٹنے کا اشارہ کر رہی تھی۔ " اس کھڑوس کو تو۔۔۔۔ وہ پلٹی ہی تھی کے باقی کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے۔ پیچھے کھڑا ہاشم خانزادہ نوال کو گھور رہا تھا۔ وہ لب کاٹتی چہرہ چھپا گئی تھی ۔ پر آفس پارٹی میں اس کے نوخیز حسن نے ہاشم کو چونکا دیا۔۔۔" آپ مجھ سے شادی کریں گی مس نوال؟ " ہاشم کے پروپوزل پر اس کا چہرہ سرخ ہو گیا۔۔۔۔" سر آپ ہوش میں تو ہیں میریڈ ہو کے ایسی بات کر رہے ہیں؟؟ " میریڈ ہوں پر میری بیوی کے اندر کچھ پیچیدگیاں ہیں میں اس قربت نہیں قائم کر سکتا۔" ہاشم کی اس کھلی بات پر نوال شرم سے سرخ ہو گئی پر پہلی رات ہی ہاشم نے اپنی ساری شدتیں اسکی ناز لڑکی میں انڈیلیں۔۔۔۔۔

" سر میں نے جو دس لاکھ کا لون لیا تھا میں اپنی سیلری میں سے ہر مہینے کٹ کرواتی رہوں گی۔" ہاشم اس کی طرف دیکھ کر دونوں بازوں سینے پر باندھ کر کہنے لگا " مس نوال آپ کی سیلری ستر ہزار ہے اگر آپ مہینے کے بیس ہزار بھی کٹ کروائیں گی تو نہ جانے کتنے سال لگ جائیں گے۔بہر حال اگر آپ چاہیں تو میں آپ کی یہ رقم معاف بھی کر سکتا ہوں۔" اس کی یہ بات سن کر نوال نے سر اٹھایا تھا۔ کہنے لگی۔۔ " کہ کیا مطلب ہے آپ کا صرف؟" " مس نوال کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی؟۔۔۔۔ " اتنے امیر بزنس ٹائیکون کے منہ سے یہ الفاظ سن کر وہ بھونچکا کر رہ گئی تھی۔۔۔۔

سٹپٹا کر فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔ "سر۔۔۔۔۔سر یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟؟ " " ہوش و حواس میں ہوں اور آپ کو یہ بات بھی کلیئر کرنا چاہتا ہوں کہ میں پہلے سے شادی شدہ ہوں۔ میری ایک بیوی ہے جو کہ کچھ ایسی پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا ہے کہ مجھے میرا حق دے ہی نہیں سکتی نہ ہی میں بچے اس سے پیدا کروا سکتا ہوں اور میری امو جان بار بار مجھ پر دباؤ ڈالتی ہیں کہ میں انہیں خوشیاں حقیقت یہ ہے کہ وہ بھی بستر پر ہی ہوتی ہیں اور اس وقت مجھے آپ سے زیادہ اچھی نیچر کی لڑکی کوئی اور ملی نہیں۔ کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی؟۔۔۔۔" نوال تو فوراً دو قدم پیچھے ہٹا چکی تھی۔

اس کی آنکھوں میں آنسو آچکے تھے۔ " ہر گز نہیں میں نے کبھی آپ جیسے شخص سے شادی کرنے کا نہیں سوچا تھا جو پہلے سے شادی شدہ ہو۔ میں تو ابھی بالکل جوان جہان کنواری ہوں بھلا آپ جیسے شادی شدہ شخص سے شادی کیسے کر سکتی ہوں؟؟ " ہاشم کے چہرے پر ایک مسکراہٹ آئی تھی۔ اب وہ اس معصوم لڑکی کو کیا بتاتا کہ وہ خود بھی ابھی تک کنوارا ہی ہے شادی کو اتنے سال گزر چکے تھے لیکن وہ ابھی تک پریشے کے قریب گیا ہی نہیں تھا۔۔۔

" ٹھیک ہے مس نوال آپ کے پاس سوچنے کا وقت ہے اگر آپ مجھ سے شادی میں دلچسپی رکھتی ہیں تو مجھے بتا دیجیے گا۔ اب آپ جا سکتی ہیں۔۔۔" نوال واپس آگئی تھی۔ اس کی سہیلی بار بار اس سے پوچھ رہی تھی کہ اندر کیا بات ہوئی؟؟ آج تو باس کے آفس میں کچھ زیادہ ہی دیر لگ گئی تمہاری لیکن وہ کچھ بول ہی نہ پائی تھی۔ اس شام جب گھر گئی تو سامنے اس کی پھوپھو بیٹھی ہوئیں تھیں۔ اس کے باپ کی عیادت کو آئیں تھیں اور ساتھ باتوں ہی باتوں میں کہنے لگیں۔۔۔

" بھائی صاحب ایک ہی تو بیٹا ہے میرا اور آپ کی بھی صحت ٹھیک نہیں رہتی میں چاہتی ہوں کہ نوال بیٹی کا رشتہ اپنے جواد کے ساتھ طے کر دوں۔ گھر میں تو کوئی مرد ہے نہیں اور آپ بھی بستر پر ہو اس لیے میں سوچ رہی تھی کہ جواد کو آپ گھر داماد بنا کر ہی رکھ لو۔ ہمارے گھر اس کے بعد میں اور میرا شوہر ہی رہ جائیں گے ویسے بھی اس گھر پہ ہمارا بھی تو حق ہے اس لیے ہم بھی یہیں پر آجائیں گے۔ بھابھی کو بھی سہارا ہو جائے گا۔ مل جل کر سب ساتھ رہیں گے۔ آج کل کے حالات تو ویسے ہی نہیں ٹھیک جوان جہان بچیاں ہیں آپ کی اور آپ بستر پر۔ گھر میں مردوں کا ہونا تو ضروری ہے نا۔ آج کل اونچ نیچ ہو جائے تو کچھ پتہ نہیں چلتا۔" نوال کے قدم تو وہیں پر رک چکے تھے۔۔

 اپنی چالاک پھوپھو کی باتیں سن کر اسے شدید غصہ آنے لگا تھا جو اپنے ان پڑھ نکٹو اور بےروزگار بیٹے کو یوں اس کے ساتھ باندھنے کی کوشش کر رہیں تھیں اور یہ گھر بھی کسی نہ کسی طرح اس کے نام کروانا چاہ رہیں تھیں۔ حسن صاحب تو اپنی بہن کی طرف سے یہ بات سن کر گویا ماننے ہی والے تھے آخر کو وہ بھی بھائی تھے بہن کی چالاکیوں سے کہاں ہی واقف تھے؟؟ ان کے جاتے ہی جب حسن صاحب نے اپنی بیٹی سے یہ بات کی کہ " بیٹا میں تمہارا رشتہ جواد سے طے کرناچاہتا ہوں۔۔" تو وہ فوراً ہتھے سے اکھڑ چکی تھی۔ 

" ہر گز نہیں بابا میں اتنی پڑھی لکھی لڑکی ہوں کیا اس لیے میں نے پڑھائی کی اپنے قدموں پر کھڑی ہوئی تاکہ وقت آنے پر اس جیسے بے روزگار نکٹو سے شادی کر لوں اور بعد میں شادی کے بعد اس کو اور پھوپھو لوگوں کو بھی میں ہی کما کر سنبھالتی پھروں؟؟ ہر گز نہیں میں ایسے شخص سے کھی بھی شادی نہیں کرنے والی۔" حسن صاحب اپنی بیٹی کی یہ بات سن کر چپ ہو چکے تھے۔

 ربیعہ بیگم فوراً سے کہنے لگی کہ " بیٹا آج کل رشتے ملنا بہت مشکل ہو گئے ہیں۔۔۔۔ کیا ہو گیا تمہاری پھوپھو ہی تو ہیں اگر اس گھر میں آکر رہنا شروع ہو جائیں گی تو کیا ہے؟؟؟" وہ تو ان ماؤں میں سے تھی کہ بس جو پہلا رشتہ آئے بیٹی کو وقت سے پہلے ہی بیاہ دیا جائے کہ کہیں اس کی عمر ہی نہ گزر جائے لیکن نوال سر پکڑ کر رہ چکی تھی۔بار بار اس کے ماں باپ دباؤ ڈالنے لگے تھے لیکن وہ پھوپھو کو کبھی بھی اس گھر پر قابض نہیں ہونے دینا چاہتی تھی۔۔۔

 اس کے ماں باپ جتنے سادہ طبیعت کے ہیں۔ اس کے پھوپھو، پھوپھا اور جواد اتنے ہی چال باز تھے۔ یہی سوچتے ہوئے اسے فوراً ہاشم کا خیال آیا تھا۔ ہاشم جس طرح اسے پرپوز کر رہا تھا یہ سوچ کر ہی وہ چپ ہوچکی تھی۔ دو دن لگے تھے اسے فیصلہ کرنے میں اور پھر جب وہ دوبارہ واپس گئی تھی تو ہاشم اپنے آفس میں ہی تھا۔ جیسے تیسے ہمت جمع کر کے وہ خود اس کے آفس میں گئی تھی۔ اسے ایسا کہتے ہوئے شدید شرم بھی محسوس ہو رہی تھی لیکن اس کے خاندان کے لڑکوں سے تو اچھا اسے ہاشم ہی لگ رہا تھا۔ اگر وہ اس سے شادی کر لیتی تو ایک سمجھوتہ ہی سہی لیکن کم از کم اس کے ماں باپ کی زندگی تو پر سکون ہوجاتی اور وہ جاب بھی کرتی رہتی اپنے گھر والوں کو سپورٹ کرنے کے لیے۔ 

ہاشم نے جب اسے اپنے آفس میں دیکھا تو فوراً چہرے پر ایک رونق لگا کے بیٹھ گیا۔ " مس نوال آئیے۔" وہ اپنے آئی برو چڑھاتے ہوئے کہنے لگی کہ " نہیں سر میں پیٹھنے نہیں آئی وہ مجھے آپ سے کہنا تھا کہ میں آپ کے ساتھ وہ سب کرنے کے لیے تیار ہوں۔۔۔" " کیا وہ سب کرنے کو تیار ہو؟ وہ کچکچاتے ہوئے بولی۔ " آپ نے مجھ سے کہا تھا نا کہ آپ مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہیں تو میں آپ سے شادی کرنے کے لیے تیار ہوں۔۔۔" یہ کہہ کر وہ فوراً وہاں سے باہر نکل آئی تھی۔ دل بڑے زوروں سے دھڑک رہا تھا اور ہاشم کے چہرے پر ایک معنی خیز سی مسکراہٹ آچکی تھی۔۔۔۔

 اسی روز اس نے گھر جا کر امو جان کو بتایا تھا۔ امو جان تو خوشی سے نہال ہو رہی تھی۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے ان کے وجود میں جان آچکی ہو وہیں جب پریشے کو اس نے یہ بتایا کہ امو جان کی خوشی کی خاطر تمہاری ضد کی خاطر میں نے ایسا کرنے کا سوچا تو وہ بھی اپنے چہرے پر مسکراہٹ لاچکی تھی۔ اپنے کپکپاتے ہوئے ہاتھوں سے باشم کا چہرہ چھو کر کہنے لگی " ہاشم تم شادی تو کر لو گے لیکن یہ بھول مت جانا کہ تمہاری پہلی بیوی میں ہی ہوں تم پر پہلا حق میرا ہی ہوگا۔۔۔" وہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھر گیا تھا۔ اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے اور پھر امو جان کے ساتھ وہ رشتہ لے کر نوال کے گھر پہنچ چکے تھے۔ اتنے امیر کبیر گھرانے سے رشتہ دیکھ کر ان لوگوں کی خوشی کی تو کوئی انتہا نہیں رہی تھی۔ اگلے ہی جملے کو نکاح کی ڈیٹ فکس ہو چکی تھی۔ شادی کا سارا خرچہ ہاشم نے ہی اٹھایا تھا۔ اس کا عروسی لباس بے حد خوبصورت تھا ہاشم کا سوچ کر ہی اس کا دل دھڑک رہا تھا۔ وہ ایک بار ہی آفس گئی تھی اور سب اس کی قسمت پر حیران ہو رہے تھے۔ 








CLICK BELOW THE DOWNLOAD LINK TO GET MANN MAYAL BY DIYA NOVELS


Download


CLICK BELOW THE MEDIAFIRE DOWNLOAD LINK TO GET DOWNLOADED LINK OF NOVEL


Mediafire Download Link



Introduction Of Novel


Mann Mayal is a contemporary Urdu romantic drama that revolves around Nawal, an educated and self-respecting young woman who finds herself trapped between family pressures and an unexpected marriage proposal from her wealthy boss, Hashim Khanzada. When her cunning relatives attempt to force her into a marriage for their own benefit, Nawal is compelled to make a difficult decision that changes the course of her life.

Hashim, a successful businessman with a complicated marital situation, proposes a marriage of convenience to Nawal. Believing it to be the best solution for her family's problems, she reluctantly agrees. However, what begins as a practical arrangement soon becomes an emotional journey filled with secrets, sacrifices, misunderstandings, family politics, and the possibility of true love.

The novel explores themes of family obligations, trust, self-respect, sacrifice, and second chances, while highlighting the challenges faced by women when societal expectations clash with their personal dreams. Readers who enjoy emotional romance, strong heroines, and wealthy-hero storylines will find this novel engaging and captivating..


Introduction Of Writer



Diya Novels is a popular Urdu fiction writer known for creating emotional romantic stories filled with family drama, strong emotions, misunderstandings, and captivating love stories. Her novels often feature powerful heroes, resilient heroines, and engaging plots that keep readers invested from beginning to end. Through her expressive writing style, she explores themes such as love, sacrifice, trust, family relationships, and personal growth.


 

Post a Comment

Previous Post Next Post