Novel Name
Jalti Chandni
Writer
Diya Novels
Category
Forced Marriage Based
Most Attractive Sneak Peak Of Jalti Chandni By Diya Novels
" تائی اماں!! اسٹور کا پنکھا خراب ہوگیا میں آپ کے کمرے میں لیٹ جاؤں؟ " صندل کی بات پر بانو بیگم آگ بگولا ہو گئی۔ " تجھے بہت شوق ہے اے سی میں سونے کا تیرے نشی باپ نے تو جہیز میں تجھے پنکھا تک نہ دیا۔ میرا بیٹا تجھے ہاتھ لگائے بغیر جو چلا گیا تبھی تجھ سے گرمی برداشت نہیں ہو رہی۔" بانو بیگم نے اسے جھڑکی دے کر بھگا دیا۔ ابا کا نشے کی لت سے انتقال ہوا تو تایا ابو نے اس کا نکاح اپنے بڑے بیٹے اسفند یار سے کر دیا۔ جو نکاح کی رات اسے چھوڑ کر دبئی چلا گیا۔ وہ اس گھر میں جانوروں سے بھی بدتر تھی۔ پھر اس رات گیلے کپڑے کر کے وہ گرمی میں سو گئی۔ اسکی رعنائیاں صاف جھلک رہی تھیں۔ رات اچانک کوئی اس کے وجود پر چھا گیا تو وہ چیختی ہوئی باہر بھاگی۔ سامنے اسفند تھا صندل کی بکھری حالت دیکھ کر اسنے فورا۔۔" میرے اتنے لائق فائق اور کماؤ بیٹے کے لیے اس نشئی کی بیٹی ہی رہ گئی تھی جو اسے اٹھا کر آپ لے آئے ہیں میری بہو بنا کر! اس کی اتنی اوقات نہیں کہ یہ میری بہو بن سکے! میں ابھی اور اسی وقت اسے دھکے دے کر یہاں سے نکال دوں گی۔۔۔" زرینہ بیگم غصے سے پاگل ہو رہی تھی جیسے!!! چادر میں لپٹا صندل کا نازک وجود کانپنے لگا اس سے پہلے کہ وہ اس کی طرف بڑھتیں۔۔۔ تایا ابو بیچ میں حائل ہو گئے۔۔۔" تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے زرینہ اب جو ہونا تھا وہ ہوگیا میں کیا کرتا اس لاوارث لڑکی کو وہیں اکیلا چھوڑ کر آجاتا؟؟ سارے لوگ مجھے دیکھ رہے تھے ظاہر ہے مجھے کوئی تو فیصلہ کرنا تھا اوپر سے وہ لوگ مجھ پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ میں اسفند یار کا نکاح اس سے کر دوں تبھی وہ لوگ اسے میرے ساتھ آنے دیں گے۔" تایا ابو نے اپنی مجبوری بتائی۔ لیکن زرینہ بیگم ان کی کوئی بھی بات سننے کو تیار نہیں تھی تبھی چیختے ہوئے کہنے لگی۔۔۔" اس لیے آپ نے اسفند کو فون کر کے بلوایا! مجھ سے ایک دفعہ بھی پوچھنا گوارا نہیں کیا ارے میں نے اپنے بیٹے کو جوان کیا اسے پالا پڑھایا لکھایا کیا میرا کوئی حق نہیں تھا بیٹے پر؟؟ بڑا چال باز تھا اس کا باپ جاتے جاتے بھی مکار اپنی بیٹی کو ہمارے سر پہ تھوپ گیا! " غصے سے ان کا بلڈ پریشر ہائی ہو رہا تھا جبکہ صندل کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ اس سچویشن میں جائے تو جائے کہاں؟؟؟ سر جھکائے وہیں کھڑی رہی۔۔۔غمزدہ آنکھیں معصوم چہرہ وہ ابھی تک اس صدمے سے باہر نہیں آئی تھی کہ وہ اس بھری دنیا میں بالکل اکیلی رہ گئی ہے اگر جو تایا ابو عین وقت پر نہ آتے تو نہ جانے اس کے ساتھ کیا ہو جاتا؟؟؟ وہ بار بار اپنی آنکھیں صاف کر رہی تھی تبھی تائی اماں نے اسے نفرت سے دیکھا تھا "یہ تو سوگ پھیلانے آئی ہے ہمارے گھر میں منحوس۔۔اتنی جلدی اپنے ماں باپ کو کھا گئی اب ہمیں کھانے آگئی ہے ادھر دیکھنا ہمارا گھر برباد کر کے رہے گی!۔۔۔" زرینہ بیگم نے انگلی اٹھا کر تایا ابو کو وارن کیا تھا۔تبھی اسفند اپنے کمرے سے نکل کر آیا تھا۔ " آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے امی میں نے اس رشتے کو قبول ہی نہیں کیا ابو نے بس سب لوگوں کے سامنے مجھے ہاں کہنے کو کہا اور میں نے اس نکاح نامے پر سائن کر دیے ورنہ اس لڑکی کو میں کبھی اپنی بیوی کے روپ میں قبول نہیں کروں گا!۔۔۔" صندل کی نظریں زمین میں گڑ گئی تھیں اسفند کی بات پر! اس کے الفاظ سن کر زرینہ بیگم کو سکون محسوس ہوا۔۔۔" ٹھیک ہے میرے بچے لیکن اب تم واپس جانے کا ارادہ مت کرنا میں تمہیں اپنی آنکھوں سے اتنی دور نہیں جانے دوں گی! " زرینہ بیگم نے اس کی منتیں کی تھیں اسفند یار نے نفی میں سر ہلایا تھا " اگر اب وہ اپنی مرضی کا فیصلہ مجھ پر نہ تھوپتے تو میں شاید دبئی جانے کا ارادہ ترک کر دیتا لیکن دو دن بعد میں جا رہا ہوں کیونکہ ہر چیز میں ابو نے میری مخالفت کی! ساری زندگی وہ یہی کرتے آئے ہیں اور آج اس لڑکی کو میرے سر پہ بٹھا دیا کیا ایسی لڑکیوں کے ساتھ بھی زندگی گزاری جاتی ہے جو بےشعور ہوں چنہیں زمانے کے ساتھ چلنا بھی نہ آئے حالت دیکھیں اب اس لڑکی کی!۔۔ " اسفند یار تنفر سے صندل کو دیکھ رہا تھا۔بہت ہی بوسیدہ کپڑے لمبی قمیض جو گھٹنوں سے بھی نیچے تھی پرانی چپل اور اوپر سے کالی چادر لپیٹ کر وہ کونے میں کھڑی تھی اسی ملازمہ نوکرانی سے کم نہیں لگ رہی تھی تبھی تو اسفند یار کی آنکھوں میں اس کے لیے تحقیر تھی۔ کہاں وہ ایلی سے شادی کرنے کے خواب دیکھ رہا تھا جو دبئی میں اس کے ساتھ جاب کرتی تھی فرانس سے تعلق رکھنے والی ایلی اس کی مردانہ پر وجاہت شخصیت پر جان چھڑکتی تھی دونوں میں خاصی گہری دوستی ہو گئی تھی۔۔۔لیکن دونوں نے ہی ابھی تک آپس میں کسی قسم کی محبت یا پھر شادی کرنے کا ارادہ نہیں کیا تھا۔ جب وہ پاکستان آرہا تھا تب بھی وہ بہت اداس نظر ارہی تھی۔ " اسفی ۔۔۔۔۔۔ یو آر گوئینگ ٹو پاکستان ول یو کم بیگ؟؟؟ " اس نے بڑی آس سے پوچھا تو اسفند مسکرا دیا۔۔۔۔" کیوں نہیں ضرور واپس آؤں گا۔۔" وہ اسے کیسے بتاتا کہ وہ اپنا دل یہیں پر چھوڑ کر جا رہا ہے پاکستان آیا اچانک ہی ابو نے اس کا نکاح کر دیا وہ بھی اس لڑکی سے جو نہایت ہی معمولی عام سی تھی۔۔۔۔۔
CLICK BELOW THE DOWNLOAD LINK TO GET JALTI CHANDNI BY DIYA NOVELS
CLICK BELOW THE DOWNLOAD LINK TO GET JALTI CHANDNI BY DIYA NOVELS
Download
CLICK BELOW THE MEDIAFIRE DOWNLOAD LINK TO GET DOWNLOADED LINK OF NOVEL
CLICK BELOW THE MEDIAFIRE DOWNLOAD LINK TO GET DOWNLOADED LINK OF NOVEL
Mediafire Download Link
Introduction Of Novel
Jalti Chandni is a romantic and social Urdu novel that explores the complexities of love, trust, destiny, and human emotions. The story follows characters who face various challenges, emotional struggles, and life-changing decisions. As the plot unfolds, readers experience a journey filled with romance, heartbreak, hope, and resilience.
The novel is appreciated for its captivating storytelling, emotional depth, and relatable characters, making it an enjoyable read for fans of Urdu romantic fiction. It keeps readers engaged with unexpected twists and heartfelt moments while highlighting the importance of patience, faith, and true love.
