Ziddi Ishq Mera By Muntaha Chauhan

 


Urdu Nonvillains is a platform for all social media writers. Here you find variety of novels having different plot and concept about life of a human being who faces difficulties in every walk of life. 

Each story has its own moral every story teaches us a new lesson as it contains experience of every human life.

Here you find revenge based, Islamic based, Rude hero, Doctor, Lawyer based with many more exciting tragedies......

Ziddi Ishq Mera   is one of the fabulous novel that get attention by readers after reading it you will love this novel. Download this novel by clicking below the given link.


If you have any queries regarding downloading let us know by commenting below. After reading this novel also leave your precious comments below and let us know about your thoughts and novel selection which type of novels would you like to read????? and which type you want to be posted here we will try to bring novels according to your choice of selection. Thanks for Reading!!!!!!


Ziddi Ishq Mera By Muntaha Chauhan


Download


Sneak Peak No : 1

کتنے گھنٹے گزر گٸےتھے وہ نہیں جانتا تھا۔
بس دیوار کے ساتھ ٹیک لگاٸے دادا جی کے لیے ہی دعا گو تھا۔
اسی اثنا میں ڈاکٹر عرفان آٸی سی یو سے باہر آٸے۔
وہ فوراً سے پہلے ان تک پہنچا۔
کیسے ہیں۔۔۔؟؟ دادا جی۔۔؟
یامین نے ڈاکٹر عرفان کے باہر آتے ہی پوچھا۔
اس نے گھر میں کسی کو کوٸی اطلاع نہیں دی تھی ابھی تک۔ وہ کسی کو بھی پرشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔
جبکہ ہاسپٹل کی سیکیورٹی اس نے بہت سخت کر دی تھی۔ اور اپنے بندے اس نے جو ٹاٸر کیے تھے۔ وہ اس حادثے کا سراغ لگانے میں مصروف تھے۔
اس کے نکاح کا بندوبست بھی ڈاکٹر عرفان نے ہی کیا تھا۔
اپنے جانے والے مولوی صاحب کو بلوایا تھا۔
ڈاکٹر عرفان سے ان کے پرانے مراسم تھے۔
ڈاکٹر عرفان نے گہرا سانس خارج کیا۔
سنا تھا دعاٸیں معجزے دکھا دیتیں ہیں۔۔ آج دیکھ بھی لیا۔۔.
آپریشن کامیاب رہا۔۔۔ 24 گھنٹٕے ان کے لیے بہت اہم ہیں۔۔ ! دعا کرو۔۔ کہ انہیں ہوش آجاٸے۔۔۔!
تسلی بھری تھپکی دی۔
یامین نے بے اختیار آنکھیں بند کرتے اللہ کا شکر ادا کیا۔
دادا جی کے بنا جینے کا تصور بھی محال تھا۔
یامین کے قدم آٸی سی یو کی جانب بڑھے جہاں دادا جی بے ہوش مشینوں میں جکڑے تھے۔انہیں اس حال۔میں دیکھ اسکا دل کٹ سا گیا تھا۔
ان لمحوں میں وہ ہزاروں پل مرا تھا۔
دادا جی کے بنا جینا ایک سوہانِ روح لگ رہا تھا۔۔
لیکن شکر تھا اللہ کا۔۔ اس نے دعاٸیں سن لیں تھیں۔
پلٹ کے ۔۔۔۔
نظروں نے اس دشمنِ جاں کو ڈھونڈا۔
لیکن وہ نظر نہ آٸی۔
پھر یاد آیا وہ prayer room میں گٸ تھی۔ اور وہاں ابھی تک وہیں تھیں۔
قدم۔بے اختیار اس جانب اٹھے۔
دروازے پے جا کے رک گیا۔
وہ جو جاٸے نماز بچھاٸے بیٹھی تھی۔ دعا کے لیے ہاتھ بلند کیے آنکھیں بند کیے روٸے جا رہی تھی۔
یامین کو اس پے بہت دل کو کچھ ہوا۔
دادا جی کے سب سے زیادہ قریب بھی تو یہی تھی۔
دادا جی کو اگر کچھ بھی ہو جاتا تو سب سے زیادہ تو اسی نے تکلیف اٹھانی تھی۔
اس وقت اور کوٸی نہیں تھا۔
یامین خاموشی سے جوتے اتارتا اس کے پاس دوزانوں جا بیٹھا۔
وہ پری پیکر چہرہ آنسوٶں سے تر تھا۔
یامین نے ہاتھ بڑھا کے اس کے آنسو پونچھے تو اس لمحے اپنے گالوں پے کسی کے ہاتھ اک لمس محسوس کرتے اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔
امید اور حسرت کے ملے جلے تاثرات سے یامین کو دیکھا۔
پوچھنے کی ہمت نہیں جٹا پا رہی تھی۔
ٹھیک ہیں دادا جی۔۔۔! اللہ نے تمہاری دعا سن لی۔۔۔
یامین نے مسکراتے ہوٸے کہا ۔ جبکہ آنکھیں نم تھیں۔
کشش نے بے اختیار زور سے آنکھیں میچیں۔ اور سجدے میں سر جھک گیا۔
اللہ دلوں کے کتنا قریب ہوتا ہے آج۔۔ اسے احساس ہوا تھا۔۔
اور ٹوٹ کے اپنے اللہ پے پیار آیا تھا۔
Sneak Peak No : 2
اب بتاٸیں ناں۔۔۔ ! مل کے کوٸی چکر چلاتے ہیں۔۔ کہ Snake بھی مر جاٸے اور axe بھی نہ ٹوٹے۔
بہت خوشی اور امید سے کہا۔
مسز۔۔۔ کشش یامین سکندر۔۔! ایک بات آج آپ غورسے سن لیں۔ رخصتی تو آپ کی کل ہی ہو گی۔۔۔
اور وہ بھی دادا جی کی خواہش کے مطابق بہت دھوم دھام سے۔۔ اس لیے۔۔ اپنے دماغ سے یہ فتور نکال دیں۔۔اور۔۔ تیاری کریں۔۔
یامین نے اکا۔دماغ بہت اچھے سے ٹھکانے لگایا۔
آ۔۔۔۔آپ۔۔۔ مذاق کررہے ہیں۔۔۔ ناں۔۔۔؟؟
منمناتے ہوٸے پوچھا۔
ہر گز نہیں۔۔۔۔! رخصتی دادا جی کی خواہش ہے۔۔ اور انکی خواہش میرے لیے محترم۔۔۔!
بہت سنجیدہ انداز میں کہا۔
یہ۔۔ تو۔۔۔ زیادتی ہے۔ناں۔۔۔!! میں تو ابھیپیدا بھی نہیں ہوٸی۔۔۔۔۔ اور شادی۔۔۔!
ماتھے کے چھوٹے چھوٹے بل یامین کو بہت بھاٸے۔
کیا مطلب۔۔۔اس بات کا۔۔۔؟؟
یامین کو اسکی بات بالکل۔سمجھ نہیں آٸی۔
دیکھیں ناں۔۔ سیانے کہتے ہیں ناں۔۔
کہ جنےلاہور نہی دیکھیا ۔۔۔ ااوہ۔۔ جمیا نہیں۔۔۔
تو میں نے بھی تو نہیں دیکھا۔۔۔۔ اور۔۔۔ ابھی مجھے۔۔۔ ورلڈ ٹورپے جانا ہے۔۔۔ میرے اتنے زہادہ خواب ہیں۔۔ ان کا کیا ہو گا۔۔۔؟؟
بہت دکھ سمویا تھا لہجےمیں۔۔۔
گاڑی کشش کے گیٹ کے سامنے رکی۔
تمہارے چھوٹے بڑے سب۔۔۔۔۔ چاہ۔۔۔اب میں پورے کروں گا۔۔۔۔ ! تم۔۔ بس۔۔ کالج سے چھٹیاں لے لو۔۔
آرڈر یتے وہ ساممے دہکھنےلگا۔
ایویں چھٹیاں لے لو۔۔۔۔! کاپی کیا۔
تو یامین نے اسے گھورا۔
پلیز۔۔۔۔ ! بات کو سمجھیں ناں۔۔۔! میں نے ۔۔ابھیشادی نہیں کرنی۔۔۔۔ اب کی بار منت کی۔
کشش۔۔۔! شادی ہو چکی ہے۔
اب بس رخصتی ہے۔۔۔ اور کوٸی بکھیڑا کھڑا مت کرنا۔۔۔ یامین اسکی طرف جھککے قریب ہوتا سرگوشی میں بولا۔۔
کہ اسکی دھڑکنوں نے شور مچایا۔
آپ۔۔۔ناں۔۔ بہت۔برے ہیں۔۔۔ میں ناں۔۔۔ دیکھنا۔۔۔ اب کیا کرتی ہوں۔۔!!
گاڑی کا دروازہ کھولتے وہ منہ بنا کے بولتی نیچے اتر گٸ۔
یامین مسکراتے اسے جاتا دیکھتا رہ گیا۔
Sneak Peak No : 3
اب لکھو بھی۔۔۔۔!!
کشش نے سمیر سے کہا۔
کشش کیایہ سب صحیح ہے۔۔؟؟ یامین بھاٸی کو پتہ چلا ناں۔۔۔تو۔۔۔ خیر نہیں۔۔۔
سمیرنے ڈرانا چاہا۔
تم چپ رہو۔۔۔! اورجو کہاہے وہ کرو۔۔
کشش نے اسے ٹوکا۔
اس وقت وہ چھت پے بیٹھے یامین کے رشتے کا نیوز پیپر میں ایڈدے رہے تھے۔
اور سمیر کوڈر لگ رہا تھا جبکہ کشش پورے کانفیڈینس سے ریڈی تھی۔ہر چیز کے لیے۔
لکھو۔۔۔ بھی۔۔۔!!
کشش نے اسے گھرکا۔
کھواٶ گی کچھ تو لکھوں گا ناں۔۔۔۔!!
سمیر بھی چڑا۔
لکھو۔۔۔! ضرورتِ رشتہ۔۔۔۔!
بہت سوچتے ہوٸے وہ بولی۔
کرن ک چہرے پے سماٸیل آٸی۔
داور اس وقت اپنے کام سے واپس نہیں آیا تھا۔ ورنہ وہ بھی اس ٹیم کا حصہ ہوتا۔
آگے بولو۔۔۔!!
سمیر نے لکھتے ہوٸے کہا۔
سوچنے تو دو۔۔۔۔! ادھر سے ادھر چکر لگاتی وہ ماغ لڑا رہی تھی۔
ایک ہینڈسم پڑھے لکھے رٸیس زادے۔۔۔۔
واہ۔و اہ۔۔۔۔ کیا بات ہے۔۔۔۔!! مقرر ۔۔آگے۔۔۔؟
سمیر نے تعریف کی۔
کشش نے اسے گھورا۔ اور بات کو جاری رکھا۔
جو کہ دیکھنے میں سالار سکندر ۔۔۔
سوچتےہوٸے لفظوں کو جوڑا۔
چلنے میں جہان سکندر۔۔۔
یہ۔۔۔کیالکھوا رہی ہو۔۔؟؟
ایڈ لکھواٶ۔۔ تم تو اپنا خاندانی شجرہ نسب لکھوانے لگی۔
یہ سکندر وہ سکندر۔۔۔۔۔۔!!
سمیر نے منہ بناتے کہا۔
تم۔ وہ سب لکھو جو کہہ رہی رہی ہوں۔
اور درمیان میں مت بولو۔۔ میں بھول۔جاٶں گی
کشش نے اسے بری طرح ڈانٹا۔
چلوآگے لکھو۔
ہمممممم۔۔۔۔
اٹھے تو فارس غازی ۔۔۔۔
بیٹھے تو کارل۔۔۔۔۔!!
دوڑے تو عمر جہانگیر۔۔۔۔!!
ایک منٹ۔۔۔ایک منٹ۔۔۔۔! یہ۔۔ سب کون ہیں۔۔۔؟؟
سمیر لکھتے ہوٸے حیرت سے کشش کو دیکھتے پوچھا۔
جس نے دانت پیستے اسے دیکھا۔
ہیروزززززز۔۔۔۔۔ ہیں۔۔۔۔!! کافی لمبا کرتے کہا۔
اچھھھا۔۔۔۔ اچھا۔۔۔ کس فلم کے۔۔۔۔؟؟
بہت برجستہ سوال تھا۔
جس پے کرن کا قہقہہ امڈا جو اتنی دیر سے وہ روکے بیٹھی تھی۔
کشش نے خون خوار نظروں سے سمیر اور کرن دونوں کو دیکھا۔
ناولز کے ہیروز۔۔۔ ہیں۔۔۔یہ۔۔۔۔!!
بتاتے ہوٸے ساتھ ناراضگی سے دیکھا۔
سمیر کو لگا شاید اسے سننے میں کوٸی غلطی ہوٸی ہے۔۔۔
واٹ۔۔۔۔؟؟ تمہارے۔۔کہنے کا مطلب۔۔۔ ہے۔۔۔ یہ۔۔وہ لوگ۔۔ ہیں۔۔۔ جن کا کوٸی۔۔۔ وجود ہی نہیں۔۔۔ اور۔۔۔ تم۔۔۔ انکی کوالٹیز لکھوا رہی ہو۔۔۔۔ مطلب۔۔۔ یہ لوگ۔۔۔ exiSt ہی نہیں کرتے ۔۔۔ اور۔۔۔!!! اللہ کا خوف کھاٶ۔۔ یار۔۔۔ !!
کیالکھوا رہی ہو۔۔۔؟؟ میں نہیں لکھتا یہ سب۔۔۔۔!! سمیر نے پنسل اور ڈاٸری ساٸیڈ پے رکھی۔
کشش کا غصے سے برا حال تھا۔
اپنے فیورٹ ہیروز کے بارے مں یوں کسی کی راٸے سننا اسے بہت ناگوار گزرا تھا۔
سمیر کے بچے۔۔۔ جان سے مار ڈالوں گی۔۔ اگر کسی ہیرو کے بار ے میں کچھ بھی غلط کہا تو۔۔۔ یہ سارے۔۔۔ میرے۔۔ کرش ہیں۔۔ سمجھے۔!!
کشش نے ہاتھ اٹھاتے وارن کیا۔
عجیب ہی کرش ہیں۔۔۔ جو ۔۔ا سدیامیں ہیں ہی نہیں۔۔۔!!
سمیر بھی ہار نہیں مان رہاتھا۔
یہ تمہارا مسٸلہ نہیں۔
تم بس لکھتےجاٶ۔ اور کمال۔دیکھنا۔۔ اس ایڈ کا۔
کشش نے اب کی بار لہجہ نارمل رکھا۔
کوٸی لکھواے والی چی لکھواٶ تو لکھوں ناں۔۔۔!!۔بندہ پصھے تو سمجھ بھی آٸے۔۔۔
سمیر ابھی بھی راضی نہ ہوا۔
دیکھو۔ سمیر۔۔۔! آج کل ہر لڑکی کو ہی ایسا لاٸف پارٹنر چاہیے۔۔۔ اس سے یامین سکندر کا رشتہ بہت آسانی سے ہو جاٸے گا۔۔۔ سمجھو یار۔۔۔۔!!
کشش نے اسے سمجھا یا وہ مانا تو نہیں لیکن لکھنا پھر سے اسٹارٹ کر دیا ۔
کشش اسے لکھواتی گٸ اور وہ منہ بنا کے لکھتا گیا۔
ہمممم دکھاٶ تو۔۔۔۔!!
سارا لکھوا لینے کے بعد اب وہ ایک بار سارا مضمون چیک کر رہی تھی۔
گڈ ہو گیا۔۔۔۔!! اب ہم۔۔ کل ہی جاٸیں گے۔۔۔ ضرورتِ رشتہ کا یہ ایڈ نیوز پیپر میں دینے۔۔۔ تا کہ۔۔۔ جتنی جلدی ہو سکے۔۔ لگے ہاتھ یہ کام بھی نمٹ جاٸے۔۔۔۔
دیکھ لینا یہ نہ ہو۔۔ یامین بھاٸی لگے ہاتھ۔۔۔ تمہارا ہی کام نمٹا دیں۔۔۔اور تم خود کو ڈھونڈتی رہ جاٶ۔۔۔
سمیرنے لقمہ دیا تو کشش نے اسے پاس پڑا کشن دے مارا۔
وہ بھی بروقت نہیچے ہوتا خود کو بچا گیا۔

1 Comments

Previous Post Next Post