Tu Rooh Hai Meri By ZR Novels - Urdu Novilians

Novel NameTu Rooh Hai Meri
WriterZR Novels
CategoryWani Based Novel

Most Attractive Sneak Peak Of Tu Rooh Hai Meri By ZR Novels

"I want Sultan Durrani's daughter, Alize Durrani, in my bed!" "Stop talking nonsense, you shameless person, my daughter is innocent, she is fifteen years younger than me!" Sultan Durrani shouted. "Okay, then be ready to see your son's body." Everyone smelled the snake. In no time, that innocent woman became the bride of this savage man to save her brother's life. Everyone started gossiping about why he was after the Sultan's younger daughter? He had another daughter too! "Don't touch me!..." She slipped back and started sobbing. "I will descend into your soul, baby girl. I told you I will not leave you..." Flowing with the fire of revenge, he pulled her leg towards him and dominated her touched being...
Alize was looking at him with wide eyes who was standing in front of her, smiling in all his glory and throwing a heart-warming smile at her! "This.. all. you. did. intentionally.. what is it?..." she said while rubbing her forehead angrily, and Asal Haider Khan's charming laughter adorned the room... "I wanted to do all this! But look! Fate is so kind to me that it put you in my swing..." He was still laughing while Alize's heart wanted to tear off this person's smile...
"Don't lie to me! I know how I begged my father that you wanted Alize Durrani... Fate... A girl like me, at least, can't automatically come into the swing of a man like you!..." "She was the lioness daughter of a lion father! She had not learned to be afraid or bow down! She was the bravest girl in her family! She belonged to a fearless tribe!..." She had Pathan blood in her veins. She was not one to bow down like that...
"It seems my wife's mind has gone a bit crazy because I ordered your father not to beg!" "He reached her in one leap and took her face in his hands with pride, taking each face in his hands and chewing each word as he spoke, she burst out laughing! She wanted to burn this man... And he was burning too! There was only one way left for her to control him... Then the next moment he took her lips in his hands and started to oppress them...
Alizeh's breathing stopped. She was looking at the man with her eyes wide open, who was gradually drinking her breath! She felt that if she did not breathe, she would die? She started to bring her to consciousness by hitting her shoulders with her hands. Then the other person was busy drinking the cup of her lips! He was clinging to her lips in such a way that if he pulled back, he would die! Her heart was not filling! When she felt that if she did not leave Alizeh now, she would die Then he gave her lips a moment to rest, his forehead touching hers and he started breathing deeply.
What revenge, what revenge, he had forgotten everything after drinking those lips... "How dare you??? To touch my lips?? Don't you feel ashamed? Leave me..." She started to free herself, throwing herself away with anger while the real Haider Khan laughed and tightened his grip around her waist. "I said I wouldn't leave you... Did you think I would forget that slap you gave me on the cheek so easily??" He asked with awe, his gaze resting on her cheek.
For the first time, Asal Haider Khan had seen a trace of fear in Alize Durrani's eyes! He didn't even have one eye! She looked like a scalded lioness to him! " "Leave me..." Alize said, sobbing. No strong woman can be stronger than a man in terms of body and honor. At this point, she would break down, as had just happened with Alizeh...
"I will not leave you, remember..." Looking at her with such meaningful eyes, Asal Haider Khan burst out laughing! "I don't want you to leave me either." He said this in a tone full of horror, holding her cheeks. Fear ran through her veins... "You can't do anything like this to me." Seeing her hands moving towards her side, she spoke warningly, and for a moment, looking at that wet pussy, he froze.
"Get out of here!..." I don't know why he had left her, while as soon as she got freedom, she ran away from there! At a speed of two hundred...
"You will apologize to my parents." A lot of time had passed since their marriage. Alizeh had argued with him and talked to him at home two or three times. While the person who brought her for revenge was believing everything she said. He himself did not understand what was happening to him! "Is my mind gone mad?" He started asking in a sarcastic tone about what he was working on the laptop when Alizeh stared at him...
"You were rude to them!..." "What about what your brother did??" He started reminding her of something. "Your cousin's deeds were like this! I don't know how many other girls he has ruined besides these fifteen girls... It's a good thing my brother killed him, that person was saved from committing further sins and ruining girls..." She was speaking in a hateful tone. When she saw so much hate in her tone, Asal Haider was stunned for a moment...
"Maybe you don't do the same thing either..." Suddenly she became suspicious, so he grabbed his head... This girl always used to ruin his mind by saying some such thing! "What would you do if I was doing this too?" Suddenly, he thought of something and gritted his teeth, then she looked at him like this for a moment.

Urdu Sneak Peek

" مجھے سلطان درانی کی بیٹی علیزے درانی ونی میں اپنے بستر پہ چاہیے۔۔ !" " بکواس بند کرو بے غیرت انسان میری بیٹی معصوم ہے مجھ سے پندرہ سال چھوٹی ہے وہ!۔۔۔۔" سلطان درانی دھاڑے " ٹھیک ہے پھر اپنے بیٹے کی لاش دیکھنے کے لیے تیار رہو۔"۔ سب کو سانپ سونگھ گیا کچھ ہی دیر میں وہ معصوم اس وحشی مرد سے اپنے بھائی کی جان بچانے کے لیے دلہن بنی۔ سب چہ مگوئیاں کرنے لگے کہ وہ سلطان کی چھوٹی بیٹی کے پیچھے کیوں پڑا ہے؟ اس کی دوسری بیٹی بھی تو تھی! "مجھے مت چھونا!۔۔۔ " وہ پیچھے کو کھسک کر سسکنے لگی۔ " تمہاری تو روح میں اتروں گا بے بی گرل۔۔ کہا تھا نہ نہیں چھوڑوں گا تمہیں۔۔۔" بدلے کی آگ میں بہتا وہ اس کی ٹانگ کھینچ کر اپنی جانب کرتا اس کے ان چھوے وجود پر حاوی ہوا۔۔۔۔۔۔۔
علیزے اس کو پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی جو اس کے سامنے کھڑا پوری شان ست مسکراتے ہوئے اس کی جانب دل جلاتی مسکراہٹ اچھال رہا تھا! " یہ۔۔ سب تم نے۔ جان بوجھ کر۔۔۔ کیا ہے نہ؟۔۔۔" وہ غصے سے ماتھے پہ بل ڈالتے ہوئے بولی تو اصال حیدر خان کا دلکش قہقہہ کمرے کی زینت بنا۔۔۔ " میں نے یہ سب کرنا چاہا تھا! مگر دیکھو! قسمت مجھ پہ اتنی مہربان ہے کہ اپنے آپ تمہیں میری جھولی میں ڈال دیا۔۔۔" وہ ہنوز ہنس رہا تھا جب کہ علیزے کا دل چاہ رہا تھا اس شخص کی مسکراہٹ نوچ لے۔۔۔۔
" جھوٹ مت بولو میرے ساتھ! جانتی ہوں میں کیسے میرے باپ سے بھیک مانگی تھی کہ تمہیں علیزے درانی چاہیے۔۔۔ قسمت۔۔۔ مجھ جیسی لڑکی کم از کم تم جیسے مرد کی جھولی میں تو خود بخود نہیں آسکتی!۔۔۔ " وہ شیر باپ کی شیر بیٹی تھی! اس نے ڈرنا اور جھکنا نہیں سیکھا تھا! وہ اپنے خاندان کی سب سے بہادر لڑکی تھی! اس کا تعلق ایک نڈر قبیلے سے تھا!۔۔۔۔" اس کی رگوں میں پٹھان کا خون تھا۔۔ وہ ایسے ہی تو جھکنے والوں میں سے نہ تھی۔۔۔
" لگتا ہے میری بیوی کا دماغ کچھ خراب ہو چکا ہے کیوں کہ میں نے تمہارے باپ کو حکم دیا تھا بھیک نہیں مانگی تھی!۔۔۔۔ " وہ ایک جست میں اس تک پہنچ کر اس کے غرور سے تنے چہرے کو اپنی گرفت میں لے کر ایک ایک تنے چہرے کو اپنی گرفت میں لے کر ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولتا پھنکارا تو وہ قہقہہ لگا گئی! اس مرد کو جلانا ہی تو چاہتی تھی وہ۔۔۔۔ اور وہ جل بھی رہا تھا! اس کو قابو کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ بچا تھا اس کے پاس۔۔۔ تبھی اگلے ہی پل اس کے لبوں کو اپنی گرفت میں لے کر اس کے لبوں پر ظلم ڈھانے لگا۔۔۔
علیزے کی سانسیں تھمیں۔۔ وہ آنکھیں پھاڑے اس مرد کو دیکھ رہی تھی جو رفتہ رفتہ اس کی سانسیں پیتا جا رہا تھا! اس کو لگا وہ سانس نہیں لے گی تو مر جائے گی؟ اپنے ہاتھوں کو اس کے کندھوں پر زور زور سے مارتی وہ اسے ہوش دلانے لگی۔ مھر مقابل اس کے لبوں کا جام پینے میں مصروف تھا! وہ یوں اس کے لبوں سے لپٹا تھا کہ پیچھے ہٹا تو مر جائے گا! دل تھا کہ بھر ہی نہیں رہا تھا! جب اسے لگا کہ اگر اب علیزے کو نہ چھوڑا تو وہ مر جائے گی تبھی وہ اس کے لبوں کو کچھ پل کی فراغت بخشتا اس کے ماتھے کے ساتھ ماتھا ٹکرائے گہرے گہرے سانس لینے لگا۔۔
کون سا بدلہ کیسا بدلہ وہ تو ان لبوں کو پی کر سب بھول گیا تھا۔۔۔۔ " تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی کے؟؟؟ میرے لبوں کو چھونے کی؟؟ تمہیں شرم نہیں آتی چھوڑو مجھے۔۔۔" وہ سرد پڑتی غصے سے پھنکارتے اپنا آپ چھڑوانے لگی جب کہ اصل حیدر خان نے قہقہہ لگاتے اس کی کمر کے گرد حصار تنگ کیا۔۔ " کہا تھا نہیں چھوڑوں گا تمہیں۔۔۔۔ کیا لگا تھا اتنی آسانی سے بھول جاؤں گا وہ تھپڑ جو تم نے میری گال پہ مارا تھا؟؟۔۔۔ " آبرو اچکا کر پوچھتا وہ نگاہیں اس کے گال یہ ٹکا گیا۔۔
پہلی دفعه اصال حیدر خان نے علیزے درانی کی آنکھوں میں خوف کی لکیر دیکھیں تھی! جو اسے ایک آنکھ نہ بھائی! وہ اس کو بھپری ہوئی شیرنی ہی اچھی لگتی تھی! " "مجھے چھوڑ دو۔۔۔" علیزے نے سسکتے ہوئے کہا۔۔ کوئی بھی مضبوط عورت جسم اور عزت کے معاملے میں مرد سے مضبوط نہیں سکتی۔۔ اس مقام پہ آ کر وہ ٹوٹ ہی جاتی تھی جیسے ابھی علیزے کے ساتھ ہوا تھا۔۔۔
" میں تمہیں نہیں چھوڑوں گی یاد رکھنا۔۔۔۔" اس کو اپنی جانب زو معنی نگاہوں سے دیکھتے پاکر جس قدر غصے سے بولی اصال حیدر خان قہقہہ لگا اٹھا! " میں بھی نہیں چاہتا ڈرلنگ کہ تم مجھے چھوڑو۔۔" اس کے گال یہ لب رکھتا وحشت سے بھر پور لہجے میں بولا تو خوف اس کی رگ رگ میں سرائیت کر گیا۔۔۔" تم میرے ساتھ ایسا کچھ نہیں کر سکتے۔۔" اس کے ہاتھوں کو اپنے پہلو کی جانب بڑھتے دیکھ وہ وارن کرتے ہوئے بولی تو ایک پل کے لیے اس بھیگی بلی کو دیکھتا وہ ٹھہر سا گیا۔۔
" جاؤ یہاں سے!۔۔۔ " نہ جانے کیوں وہ اسے چھوڑ گیا تھا جب کہ آزادی ملتے ہی وہ وہاں سے بھاگی! دو سو کی اسپیڈ سے۔۔۔۔
" میرے ماں باپ سے معافی مانگو گے تم۔۔" ان کے نکاح کو کافی ٹائم گزر چکا تھا۔۔ علیزے اس سے لڑ جھگڑ کر دو تین دفعہ اپنے گھر بات کر چکی تھی۔۔ جب کہ وہ بدلے کے لیے اسے لے کر آیا شخص اس کی ہر بات مانتا جا رہا تھا۔۔ وہ خود نہیں سمجھ رہا تھا کہ اس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے! " دماغ خراب ہو گیا یے کیا میرا؟۔۔۔۔" وہ جو لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا اسکی بات پر طنزیہ لہجے میں پوچھنے لگا جب علیزے نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔
" تم نے ان سے بد تمیزی کی تھی!۔۔۔۔" جو تمہارے بھائی نے کیا تھا اس کا کیا؟؟ وہ اسے کچھ یاد دلانے لگا۔۔ " آپ کے کزن کے کرتوت ہی ایسے تھے! نہ جانے ان پندرہ لڑکیوں کے علاوہ اور کتنی لڑکیاں اس نے برباد کی ہیں۔۔۔ اچھا ہوا میرے بھائی نے موت کے گھاٹ اتار دیا اسے مزید گناہ کرنے اور لڑکیوں کو برباد کرنے سے بچ گیا وہ شخص۔۔۔۔" وہ نفرت انگیز لہجے میں بول رہی تھی جب اس کے لہجے میں اس قدر نفرت دیکھتے ایک پل کے لیے اصال حیدر دنگ رہ گیا۔۔۔
" کہیں آپ بھی تو یہی کام نہیں کرتے۔۔۔۔ " اچانک ہی وہ مشکوک ہوئی تو وہ اپنا سر پکڑ گیا۔۔۔ یہ لڑکی ہمیشہ کوئی نہ کوئی ایسی بات کر کے اس کا دماغ خراب کر دیتی تھی! " اگر میں بھی یہ کام کر رہا ہوں تو تم کیا کرو گی؟؟۔۔۔" اچانک ہی وہ کچھ سوچ کر دانت پیستے ہوئے بولا تو وہ اس کی جانب دو پل کے لیے یوں ہی دیکھتی رہ گئی۔۔ " تو میں اپنی بھائی کی پستول کی باقی کی گولیاں آپ کے سینے میں اتاروں گی۔۔۔۔" اس کا لہجہ اس قدر اٹل تھا کہ اصال حیدر خان اپنی شیرنی کا یہ روپ دیکھ کر نثار ہوا۔۔۔" مجھے تم سے یہی امید تھی چلو اب اپنی شکل گم کرو میں کام کر رہا ہوں۔۔۔" وہ اچانک سے اس کو غائب ہونے کا کہتا اپنے لیپ ٹاپ پہ جھکا جب کہ معافی والی بات وہ پھر سے گول کر چکا تھا۔۔۔

Ready to Download?

Secure links will be generated after verification

Post a Comment

Previous Post Next Post